کچھ اضطراب عشق کا عالم نہ پوچھئے
بجلی تڑپ رہی تھی کہ جان اس بدن میں تھی
جگت موہن لال رواںؔ
پیش تو ہوگا عدالت میں مقدمہ بیشک
جرم قاتل ہی کے سر ہو یہ ضروری تو نہیں
جگت موہن لال رواںؔ
سامنے تعریف غیبت میں گلہ
آپ کے دل کی صفائی دیکھ لی
جگت موہن لال رواںؔ
توڑا ہے دم ابھی ابھی بیمار ہجر نے
آئے مگر حضور کو تاخیر ہو گئی
جگت موہن لال رواںؔ
اس کو خزاں کے آنے کا کیا رنج کیا قلق
روتے کٹا ہو جس کو زمانہ بہار کا
جگت موہن لال رواںؔ
وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواںؔ
کہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئے
جگت موہن لال رواںؔ
وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا
مجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیا
جگت موہن لال رواںؔ

