ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تجھ کو سپردگی میں سمٹنا بھی ہے ضرور
سچا ہے کاروبار تو نقصان چاہیئے
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد
شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو
عرفانؔ صدیقی
تم سے ملے تو خود سے زیادہ
تم کو اکیلا پایا ہم نے
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| تنہائی |
| 2 لائنیں شیری |
تم سنو یا نہ سنو ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ
ڈوبتے ڈوبتے اک بار پکاریں گے تمہیں
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| الوداع |
| 2 لائنیں شیری |
تو اک چراغ جہان دگر ہے کیا جانے
ہم اس زمین پہ کس طرح شب گزارتے ہیں
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اڑے تو پھر نہ ملیں گے رفاقتوں کے پرند
شکایتوں سے بھری ٹہنیاں نہ چھو لینا
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

