EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا

عرفانؔ صدیقی




تجھ کو سپردگی میں سمٹنا بھی ہے ضرور
سچا ہے کاروبار تو نقصان چاہیئے

عرفانؔ صدیقی




تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد
شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

عرفانؔ صدیقی




تم سے ملے تو خود سے زیادہ
تم کو اکیلا پایا ہم نے

عرفانؔ صدیقی




تم سنو یا نہ سنو ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ
ڈوبتے ڈوبتے اک بار پکاریں گے تمہیں

عرفانؔ صدیقی




تو اک چراغ جہان دگر ہے کیا جانے
ہم اس زمین پہ کس طرح شب گزارتے ہیں

عرفانؔ صدیقی




اڑے تو پھر نہ ملیں گے رفاقتوں کے پرند
شکایتوں سے بھری ٹہنیاں نہ چھو لینا

عرفانؔ صدیقی