سب کو نشانہ کرتے کرتے
خود کو مار گرایا ہم نے
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سمندر ادا فہم تھا رک گیا
کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| سامنڈار |
| 2 لائنیں شیری |
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
عرفانؔ صدیقی
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا
سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| سراد |
| 2 لائنیں شیری |
شمع خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| اعجاز |
| 2 لائنیں شیری |
شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے
وہ مگر خود کو جلانا بھی نہیں چاہتا ہے
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سنا تھا میں نے کہ فطرت خلا کی دشمن ہے
سو وہ بدن مری تنہائیوں کو پاٹ گیا
عرفانؔ صدیقی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

