EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سب کو نشانہ کرتے کرتے
خود کو مار گرایا ہم نے

عرفانؔ صدیقی




سمندر ادا فہم تھا رک گیا
کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے

عرفانؔ صدیقی




سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے

عرفانؔ صدیقی




سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا
سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا

عرفانؔ صدیقی




شمع خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی

عرفانؔ صدیقی




شعلۂ عشق بجھانا بھی نہیں چاہتا ہے
وہ مگر خود کو جلانا بھی نہیں چاہتا ہے

عرفانؔ صدیقی




سنا تھا میں نے کہ فطرت خلا کی دشمن ہے
سو وہ بدن مری تنہائیوں کو پاٹ گیا

عرفانؔ صدیقی