EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے
تو نے خوشبو مرے لہجے میں بسا رکھی ہے

اقبال اشہر




ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی
آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی

اقبال اشہر




وہی تو مرکزی کردار ہے کہانی کا
اسی پہ ختم ہے تاثیر بے وفائی کی

اقبال اشہر




ویسے بھی اس سے کوئی ربط نہ رکھا میں نے
یوں بھی دنیا میں کشش تیری بہ نسبت کم تھی

اقبال اشہر




وہ کسی کو یاد کر کے مسکرایا تھا ادھر
اور میں نادان یہ سمجھا کہ وہ میرا ہوا

اقبال اشہر




درخت ہاتھ ہلاتے تھے رہنمائی کو
مسافروں نے تو کچھ بھی نہیں کہا مجھ سے

اقبال اشہر قریشی




جو لوگ لوٹ کے خود میرے پاس آئے ہیں
وہ پوچھتے ہیں کہ اشہرؔ یہیں پہ اب تک ہو

اقبال اشہر قریشی