کچھ ایسے زخم بھی در پردہ ہم نے کھائے ہیں
جو ہم نے اپنے رفیقوں سے بھی چھپائے ہیں
اقبال عظیم
مرے جرم وفا کا فیصلہ کچھ اس طرح ہوگا
سزا کا حکم فوری اور سماعت سرسری ہوگی
اقبال عظیم
پرسش حال کی فرصت تمہیں ممکن ہے نہ ہو
پرسش حال طبیعت کو گوارا بھی نہیں
اقبال عظیم
قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں
اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے
اقبال عظیم
روشنی مجھ سے گریزاں ہے تو شکوہ بھی نہیں
میرے غم خانے میں کچھ ایسا اندھیرا بھی نہیں
اقبال عظیم
سفر پہ نکلے ہیں ہم پورے اہتمام کے ساتھ
ہم اپنے گھر سے کفن ساتھ لے کے آئے ہیں
اقبال عظیم
یوں سر راہ ملاقات ہوئی ہے اکثر
اس نے دیکھا بھی نہیں ہم نے پکارا بھی نہیں
اقبال عظیم

