خود کو جب بھول سے جاتے ہیں تو یوں لگتا ہے
زندگی تیرے عذابوں سے نکل آئے ہیں
اقبال اشہر قریشی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب
خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے
اقبال عظیم
اب ہم بھی سوچتے ہیں کہ بازار گرم ہے
اپنا ضمیر بیچ کے دنیا خرید لیں
اقبال عظیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اے اہل وفا داد جفا کیوں نہیں دیتے
سوئے ہوئے زخموں کو جگا کیوں نہیں دیتے
اقبال عظیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے
اقبال عظیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بارہا ان سے نہ ملنے کی قسم کھاتا ہوں میں
اور پھر یہ بات قصداً بھول بھی جاتا ہوں میں
اقبال عظیم
بے نیازانہ گزر جائے گزرنے والا
میرے پندار کو اب شوق تماشا بھی نہیں
اقبال عظیم
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

