EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آرزو ہے سورج کو آئنہ دکھانے کی
روشنی کی صحبت میں ایک دن گزارا ہے

اقبال اشہر




اشہرؔ بہت سی پتیاں شاخوں سے چھن گئیں
تفسیر کیا کریں کہ ہوا تیز اب بھی ہے

اقبال اشہر




جو اس کے ہونٹوں کی جنبش میں قید تھا اشہرؔ
وہ ایک لفظ بنا بوجھ میرے شانوں کا

اقبال اشہر




کسی کو کھو کے پا لیا کسی کو پا کے کھو دیا
نہ انتہا خوشی کی ہے نہ انتہا ملال کی

اقبال اشہر




لے گئیں دور بہت دور ہوائیں جس کو
وہی بادل تھا مری پیاس بجھانے والا

اقبال اشہر




مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی

اقبال اشہر




نہ جانے کتنے چراغوں کو مل گئی شہرت
اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے

اقبال اشہر