EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس سنگ دل کے ہجر میں چشموں کو اپنے آہ
مانند آبشار کیا ہم نے کیا کیا

انشاءؔ اللہ خاں




یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا

انشاءؔ اللہ خاں




زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہے
یہ آگ عشق کی یارب کدھر سے اتری ہے

انشاءؔ اللہ خاں




روبرو آئینے کے میں ہوں نظر وہ آئے
ہو بھی سکتا ہے یہ ہونا مگر آسان نہیں

انتصار حسین عابدی شاہد




اپنے بدن کو چھوڑ کے پچھتاؤ گے میاں
باہر ہوا ہے تیز بکھر جاؤ گے میاں

انتخاب سید




لوگ نہ جانے کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں
میرے پاس تو میرا سایا لیٹا ہے چپ چاپ

انتخاب سید




آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی

اقبال اشہر