EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کچھ روز ابھی اور ہے یہ آئنہ خانہ
کچھ روز ابھی اور میں حیرت میں رہوں گا

انعام ندیمؔ




نیند سے جاگا ہوں تو بیٹھا سوچتا ہوں
خواب میں اس کو پایا تھا یا سایا تھا

انعام ندیمؔ




پکارتے تھے مجھے آسماں مگر میں نے
قیام کرنے کو یہ خاک داں پسند کیا

انعام ندیمؔ




وہ دل جس نے ہمیں رسوا کیا تھا
ہم آج اس دل کو رسوا کر چکے ہیں

انعام ندیمؔ




یہ محبت بھی ایک نیکی ہے
اس کو دریا میں ڈال آتے ہیں

انعام ندیمؔ




زمانہ ہے برے ہمسائے جیسا
سو ہمسائے سے جھگڑا کر چکے ہیں

انعام ندیمؔ




پروفیسر ہی جب آتے ہوں ہفتہ وار کالج میں
تو اونچا کیوں نہ ہو تعلیم کا معیار کالج میں

انعام الحق جاوید