EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دریا کو کنارے سے کیا دیکھتے رہتے ہو
اندر سے کبھی دیکھو کیسا نظر آتا ہے

انعام ندیمؔ




ایک لمحہ لوٹ کر آیا نہیں
یہ برس بھی رائیگاں رخصت ہوا

انعام ندیمؔ




ہم ٹھہرے رہیں گے کسی تعبیر کو تھامے
آنکھوں میں کوئی خواب رواں یوں ہی رہے گا

انعام ندیمؔ




جیے گرچہ اسی دنیا میں ہم بھی
مگر دنیا ہماری اور ہی تھی

انعام ندیمؔ




جو تیری آرزو مجھ کو نہ ہوتی
تو کوئی دوسرا آزار ہوتا

انعام ندیمؔ




کبھی لوٹ آیا میں دشت سے تو یہ شہر بھی
اسی گرد میں تھا اٹا ہوا مرے سامنے

انعام ندیمؔ




خاموش کھڑا ہوں میں در خواب سے باہر
کیا جانیے کب تک اسی حالت میں رہوں گا

انعام ندیمؔ