دریا کو کنارے سے کیا دیکھتے رہتے ہو
اندر سے کبھی دیکھو کیسا نظر آتا ہے
انعام ندیمؔ
ٹیگز:
| داریا |
| 2 لائنیں شیری |
ایک لمحہ لوٹ کر آیا نہیں
یہ برس بھی رائیگاں رخصت ہوا
انعام ندیمؔ
ٹیگز:
| نیا سال |
| 2 لائنیں شیری |
ہم ٹھہرے رہیں گے کسی تعبیر کو تھامے
آنکھوں میں کوئی خواب رواں یوں ہی رہے گا
انعام ندیمؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جیے گرچہ اسی دنیا میں ہم بھی
مگر دنیا ہماری اور ہی تھی
انعام ندیمؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو تیری آرزو مجھ کو نہ ہوتی
تو کوئی دوسرا آزار ہوتا
انعام ندیمؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کبھی لوٹ آیا میں دشت سے تو یہ شہر بھی
اسی گرد میں تھا اٹا ہوا مرے سامنے
انعام ندیمؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
خاموش کھڑا ہوں میں در خواب سے باہر
کیا جانیے کب تک اسی حالت میں رہوں گا
انعام ندیمؔ
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

