EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہیں گھر کی محافظ مری دہکی ہوئی آنکھیں
میں طاق میں رکھ آیا ہوں جلتی ہوئی آنکھیں

امتیاز ساغر




ہوگا بہت شدید تمازت کا انتقام
سائے سے مل کے روئے گی دیوار دیکھنا

امتیاز ساغر




اسی درخت کو موسم نے بے لباس کیا
میں جس کے سائے میں تھک کر اداس بیٹھا تھا

امتیاز ساغر




اب یوں ہی دیکھتا ہوں رستہ
منزل پیش نظر نہیں ہے

امتیاز الحق امتیاز




گزری سوال وصل کے چکر میں ساری عمر
فرصت نہ مل سکی اسے گفت و شنید کی

انعام درانی




اپنی ہی روانی میں بہتا نظر آتا ہے
یہ شہر بلندی سے دریا نظر آتا ہے

انعام ندیمؔ




بجھ جائے گا اک روز تری یاد کا شعلہ
لیکن مرے سینے میں دھواں یوں ہی رہے گا

انعام ندیمؔ