EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا خبر کب برس کے ٹوٹ پڑے
ہر طرف ایسی ہے گھٹا چھائی

اندر سرازی




کیا خبر کیا خطا مری تھی کہ جو
مجھ سے روٹھا رہا خدا میرا

اندر سرازی




رازداں ہوتے ہیں وہ گھر اکثر
جن گھروں میں دھواں نہیں ہوتا

اندر سرازی




ساون کی اس رم جھم میں
بھیگ رہا ہے تنہا چاند

اندر سرازی




یہ شفق چاند ستارے نہیں اچھے لگتے
تم نہیں ہو تو نظارے نہیں اچھے لگتے

اندرا ورما




عجیب لطف کچھ آپس کے چھیڑ چھاڑ میں ہے
کہاں ملاپ میں وہ بات جو بگاڑ میں ہے

انشاءؔ اللہ خاں




بیٹھتا ہے جب تندیلا شیخ آ کر بزم میں
اک بڑا مٹکا سا رہتا ہے شکم آگے دھرا

انشاءؔ اللہ خاں