سخن کے سارے سلیقے زباں میں رکھتا ہے
نہیں کا عکس نہاں اپنی ہاں میں رکھا ہے
انعام الحق جاوید
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
تمام عمر گنوا دی جسے بھلانے میں
وہ نصف ماضی کا قصہ تھا نصف حال کا تھا
انعام الحق جاوید
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وہ ڈگری کی بجائے میم لے کر لوٹ آیا ہے
ملا تھا داخلہ جس کو سمندر پار کالج میں
انعام الحق جاوید
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اب کسی کام کے نہیں یہ رہے
دل وفا عشق اور تنہائی
اندر سرازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اور تو کوئی تھا نہیں شاید
رات کو اٹھ کے میں ہی چیخا تھا
اندر سرازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بڑی مشکل سے بہلایا تھا خود کو
اچانک یاد تیری آ گئی پھر
اندر سرازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل کے خوں سے بھی سینچ کر دیکھا
پیڑ کیوں یہ ہرا نہیں ہوتا
اندر سرازی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

