EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سخن کے سارے سلیقے زباں میں رکھتا ہے
نہیں کا عکس نہاں اپنی ہاں میں رکھا ہے

انعام الحق جاوید




تمام عمر گنوا دی جسے بھلانے میں
وہ نصف ماضی کا قصہ تھا نصف حال کا تھا

انعام الحق جاوید




وہ ڈگری کی بجائے میم لے کر لوٹ آیا ہے
ملا تھا داخلہ جس کو سمندر پار کالج میں

انعام الحق جاوید




اب کسی کام کے نہیں یہ رہے
دل وفا عشق اور تنہائی

اندر سرازی




اور تو کوئی تھا نہیں شاید
رات کو اٹھ کے میں ہی چیخا تھا

اندر سرازی




بڑی مشکل سے بہلایا تھا خود کو
اچانک یاد تیری آ گئی پھر

اندر سرازی




دل کے خوں سے بھی سینچ کر دیکھا
پیڑ کیوں یہ ہرا نہیں ہوتا

اندر سرازی