EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دکھ اداسی ملال غم کے سوا
اور بھی ہے کوئی مکان میں کیا

اندر سرازی




اک عجب شور بپا ہے اندر
پھر سے دل ٹوٹ رہا ہے شاید

اندر سرازی




جس کا ڈر تھا وہی ہوا یارو
وہ فقط ہم سے ہی خفا نکلا

اندر سرازی




جو ملا توڑتا گیا اس کو
دل لگا تھا مرا ہزاروں سے

اندر سرازی




خوب تھی اب مگر بدل سی گئی
تیرے اس شہر کی یہ تنہائی

اندر سرازی




کتنا پیارا لگتا ہے
ہوتا ہے جب پورا چاند

اندر سرازی




کچھ ہوا کا بھی ہاتھ تھا ورنہ
پردہ یوں ہی ہلا نہیں ہوتا

اندر سرازی