نہ جانے کب وہ پلٹ آئیں در کھلا رکھنا
گئے ہوئے کے لیے دل میں کچھ جگہ رکھنا
افتخار نسیم
طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیں
چل دیئے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیں
افتخار نسیم
ترا ہے کام کماں میں اسے لگانے تک
یہ تیر خود ہی چلا جائے گا نشانے تک
افتخار نسیم
تو تو ان کا بھی گلہ کرتا ہے جو تیرے نہ تھے
تو نے دیکھا ہی نہیں کچھ بھی تو پاگل ہے ابھی
افتخار نسیم
اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگا
آسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگا
افتخار نسیم
یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیا
پلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیا
افتخار نسیم
بے گھر ہونا بے گھر رہنا سب اچھا ٹھہرا
گھر کے اندر گھر نہیں پایا شہر میں پایا شہر
افتخار قیصر

