EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

حسرتؔ کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضری
سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آج

حسرتؔ موہانی




التفات یار تھا اک خواب آغاز وفا
سچ ہوا کرتی ہیں ان خوابوں کی تعبیریں کہیں

حسرتؔ موہانی




اقرار ہے کہ دل سے تمہیں چاہتے ہیں ہم
کچھ اس گناہ کی بھی سزا ہے تمہارے پاس

حسرتؔ موہانی




جبیں پر سادگی نیچی نگاہیں بات میں نرمی
مخاطب کون کر سکتا ہے تم کو لفظ قاتل سے

حسرتؔ موہانی




جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور
تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے

حسرتؔ موہانی




کبھی کی تھی جو اب وفا کیجئے گا
مجھے پوچھ کر آپ کیا کیجئے گا

حسرتؔ موہانی




کہاں ہم کہاں وصل جاناں کی حسرتؔ
بہت ہے انہیں اک نظر دیکھ لینا

حسرتؔ موہانی