پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایا
میں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہے
حسرتؔ موہانی
پرسش حال پہ ہے خاطر جاناں مائل
جرأت کوشش اظہار کہاں سے لاؤں
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستم
ہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو جائیے
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رعنائی خیال کو ٹھہرا دیا گناہ
واعظ بھی کس قدر ہے مذاق سخن سے دور
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رات دن نامہ و پیغام کہاں تک دو گے
صاف کہہ دیجئے ملنا ہمیں منظور نہیں
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام
حسرتؔ موہانی
سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔ
نہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپنا
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

