EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایا
میں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہے

حسرتؔ موہانی




پرسش حال پہ ہے خاطر جاناں مائل
جرأت کوشش اظہار کہاں سے لاؤں

حسرتؔ موہانی




راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستم
ہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو جائیے

حسرتؔ موہانی




رعنائی خیال کو ٹھہرا دیا گناہ
واعظ بھی کس قدر ہے مذاق سخن سے دور

حسرتؔ موہانی




رات دن نامہ و پیغام کہاں تک دو گے
صاف کہہ دیجئے ملنا ہمیں منظور نہیں

حسرتؔ موہانی




روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

حسرتؔ موہانی




سبھی کچھ ہو چکا ان کا ہمارا کیا رہا حسرتؔ
نہ دیں اپنا نہ دل اپنا نہ جاں اپنی نہ تن اپنا

حسرتؔ موہانی