EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ملتے ہیں اس ادا سے کہ گویا خفا نہیں
کیا آپ کی نگاہ سے ہم آشنا نہیں

حسرتؔ موہانی




مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو
پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

حسرتؔ موہانی




مجھ سے تنہائی میں گر ملیے تو دیجے گالیاں
اور بزم غیر میں جان حیا ہو جائیے

حسرتؔ موہانی




منحصر وقت مقرر پہ ملاقات ہوئی
آج یہ آپ کی جانب سے نئی بات ہوئی

حسرتؔ موہانی




نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

حسرتؔ موہانی




پیغام حیات جاوداں تھا
ہر نغمۂ کرشن بانسری کا

حسرتؔ موہانی




پیغام حیات جاوداں تھا
ہر نغمۂ کرشن بانسری کا

حسرتؔ موہانی