دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
حسرتؔ موہانی
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غم آرزو کا حسرتؔ سبب اور کیا بتاؤں
مری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندی
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
غربت کی صبح میں بھی نہیں ہے وہ روشنی
جو روشنی کہ شام سواد وطن میں تھا
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گزرے بہت استاد مگر رنگ اثر میں
بے مثل ہے حسرتؔ سخن میرؔ ابھی تک
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| میر تاقی میر |
| 2 لائنیں شیری |
ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق
پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

