EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

حسرتؔ موہانی




ہے وہاں شان تغافل کو جفا سے بھی گریز
التفات نگہ یار کہاں سے لاؤں

حسرتؔ موہانی




ہم جور پرستوں پہ گماں ترک وفا کا
یہ وہم کہیں تم کو گنہ گار نہ کر دے

حسرتؔ موہانی




ہم کیا کریں اگر نہ تری آرزو کریں
دنیا میں اور بھی کوئی تیرے سوا ہے کیا

حسرتؔ موہانی




حقیقت کھل گئی حسرتؔ ترے ترک محبت کی
تجھے تو اب وہ پہلے سے بھی بڑھ کر یاد آتے ہیں

حسرتؔ موہانی




حسرتؔ بہت ہے مرتبۂ عاشقی بلند
تجھ کو تو مفت لوگوں نے مشہور کر دیا

حسرتؔ موہانی




حسرتؔ جو سن رہے ہیں وہ اہل وفا کا حال
اس میں بھی کچھ فریب تری داستاں کے ہیں

حسرتؔ موہانی