EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کٹ گئی احتیاط عشق میں عمر
ہم سے اظہار مدعا نہ ہوا

حسرتؔ موہانی




خندۂ‌ اہل جہاں کی مجھے پروا کیا ہے
تم بھی ہنستے ہو مرے حال پہ رونا ہے یہی

حسرتؔ موہانی




کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی




خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

حسرتؔ موہانی




کوششیں ہم نے کیں ہزار مگر
عشق میں ایک معتبر نہ ہوئی

حسرتؔ موہانی




معلوم سب ہے پوچھتے ہو پھر بھی مدعا
اب تم سے دل کی بات کہیں کیا زباں سے ہم

حسرتؔ موہانی




مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل
پھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا

حسرتؔ موہانی