EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

دل کو جاناں سے حسنؔ سمجھا بجھا کے لائے تھے
دل ہمیں سمجھا بجھا کر سوئے جاناں لے چلا

حسن بریلوی




ایک کہہ کر جس نے سننی ہو ہزاروں باتیں
وہ کہے ان سے مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے

حسن بریلوی




گلشن خلد کی کیا بات ہے کیا کہنا ہے
پر ہمیں تیرے ہی کوچے میں پڑا رہنا ہے

حسن بریلوی




ہمارے گھر سے جانا مسکرا کر پھر یہ فرمانا
تمہیں میری قسم دیکھو مری رفتار کیسی ہے

حسن بریلوی




عشق میں بے تابیاں ہوتی ہیں لیکن اے حسنؔ
جس قدر بے چین تم ہو اس قدر کوئی نہ ہو

حسن بریلوی




جان اگر ہو جان تو کیوں کر نہ ہو تجھ پر نثار
دل اگر ہو دل تری صورت پہ شیدا کیوں نہ ہو

حسن بریلوی




جو خاص جلوے تھے عشاق کی نظر کے لیے
وہ عام کر دیے تم نے جہان بھر کے لیے

حسن بریلوی