EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہوا کے دوش پہ اڑتی ہوئی خبر تو سنو
ہوا کی بات بہت دور جانے والی ہے

حسن اختر جلیل




میں نہ دریا ہوں نہ ساحل نہ سفینہ نہ بھنور
داور غم کسی سانچے میں تو ڈھالے مجھ کو

حسن اختر جلیل




مجھ کو جلیلؔ کون کہے گا شکستہ دل
کھایا تھا ایک زخم سو وہ بے نشاں رہا

حسن اختر جلیل




سفینے ڈوب گئے کتنے دل کے ساگر میں
خدا کرے تری یادوں کی ناؤ چلتی رہے

حسن اختر جلیل




بھٹک رہا ہوں میں اس دشت سنگ میں کب سے
ابھی تلک تو در آئینہ کھلا نہ ملا

حسن عزیز




دیکھوں وہ کرتی ہے اب کے علم آرائی کہ میں
ہارتا کون ہے اس جنگ میں تنہائی کہ میں

حسن عزیز




اک قصۂ طویل ہے افسانہ دشت کا
آخر کہیں تو ختم ہو ویرانہ دشت کا

حسن عزیز