EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

میں ٹوٹنے دیتا نہیں رنگوں کا تسلسل
زخموں کو ہرا کرتا ہوں بھر جانے کے ڈر سے

حسن عزیز




آئی کیا جی میں تیغ قاتل کے
کہ جدا ہو گئی گلے مل کے

حسن بریلوی




آپ کی ضد نے مجھے اور پلائی حضرت
شیخ جی اتنی نصیحت بھی بری ہوتی ہے

حسن بریلوی




ابر ہے گل زار ہے مے ہے خوشی کا دور ہے
آج تو ڈوبے ہوئے دل کو اچھلنے دیجئے

حسن بریلوی




بولے وہ بوسہ ہائے پیہم پر
ارے کمبخت کچھ حساب بھی ہے

حسن بریلوی




چوٹ جب دل پر لگے فریاد پیدا کیوں نہ ہو
اے ستم آرا جو ایسا ہو تو ایسا کیوں نہ ہو

حسن بریلوی




دیکھ آؤ مریض فرقت کو
رسم دنیا بھی ہے ثواب بھی ہے

حسن بریلوی