EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

آئنے میں ہے فقط آپ کا عکس
آئنہ آپ کی صورت تو نہیں

حنیف اخگر




آنکھوں میں جل رہے تھے دیئے اعتبار کے
احساس ظلمت شب ہجراں نہیں رہا

حنیف اخگر




عجب ہے عالم عجب ہے منظر کہ سکتہ میں ہے یہ چشم حیرت
نقاب الٹ کر وہ آ گئے ہیں تو آئنے گنگنا رہے ہیں

حنیف اخگر




بزم کو رنگ سخن میں نے دیا ہے اخگرؔ
لوگ چپ چپ تھے مری طرز نوا سے پہلے

حنیف اخگر




بے شک اسیر گیسوئے جاناں ہیں بے شمار
ہے کوئی عشق میں بھی گرفتار دیکھنا

حنیف اخگر




دیکھیے رسوا نہ ہو جائے کہیں کار جنوں
اپنے دیوانے کو اک پتھر تو مارے جائیے

حنیف اخگر




دیکھو ہماری سمت کہ زندہ ہیں ہم ابھی
سچائیوں کی آخری پہچان کی طرح

حنیف اخگر