EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

قامت تری دلیل قیامت کی ہو گئی
کام آفتاب حشر کا رخسار نے کیا

حیدر علی آتش




قید مذہب کی گرفتاری سے چھٹ جاتا ہے
ہو نہ دیوانہ تو ہے عقل سے انساں خالی

حیدر علی آتش




رکھ کے منہ سو گئے ہم آتشیں رخساروں پر
دل کو تھا چین تو نیند آ گئی انگاروں پر

حیدر علی آتش




سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

حیدر علی آتش




سختیٔ راہ کھینچیے منزل کے شوق میں
آرام کی تلاش میں ایذا اٹھائیے

حیدر علی آتش




شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

حیدر علی آتش




شہر میں قافیہ پیمائی بہت کی آتشؔ
اب ارادہ ہے مرا بادیہ پیمائی کا

حیدر علی آتش