شیریں کے شیفتہ ہوئے پرویز و کوہ کن
شاعر ہوں میں یہ کہتا ہوں مضمون لڑ گیا
حیدر علی آتش
سوائے رنج کچھ حاصل نہیں ہے اس خرابے میں
غنیمت جان جو آرام تو نے کوئی دم پایا
حیدر علی آتش
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
حیدر علی آتش
طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
حیدر علی آتش
طبل و علم ہی پاس ہیں اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
حیدر علی آتش
طلب دنیا کو کر کے زن مریدی ہو نہیں سکتی
خیال آبروئے ہمت مردانہ آتا ہے
حیدر علی آتش
ٹھیک آئی تن پہ اپنے قبائے برہنگی
بانی لباس چھوٹے ہوئے یا بڑے ہوئے
حیدر علی آتش

