EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

خون مرا کر کے لگانا نہ حنا میرے بعد
دست رنگیں نہ ہوں انگشت نما میرے بعد

گویا فقیر محمد




مثل طفلاں وحشیوں سے ضد ہے چرخ پیر کو
گر طلب منہ کی کریں برسائے پتھر سیکڑوں

گویا فقیر محمد




نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور
جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے

گویا فقیر محمد




نہ مر کے بھی تری صورت کو دیکھنے دوں گا
پڑوں گا غیر کی آنکھوں میں وہ غبار ہوں میں

گویا فقیر محمد




ناصحا عاشقی میں رکھ معذور
کیا کروں عالم جوانی ہے

گویا فقیر محمد




نہیں بچتا ہے بیمار محبت
سنا ہے ہم نے گویاؔ کی زبانی

گویا فقیر محمد




نقش پا پنج شاخہ قبر پر روشن کرو
مر گیا ہوں میں تمہاری گرمیٔ رفتار پر

گویا فقیر محمد