خون مرا کر کے لگانا نہ حنا میرے بعد
دست رنگیں نہ ہوں انگشت نما میرے بعد
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مثل طفلاں وحشیوں سے ضد ہے چرخ پیر کو
گر طلب منہ کی کریں برسائے پتھر سیکڑوں
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور
جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| تاثور |
| 2 لائنیں شیری |
نہ مر کے بھی تری صورت کو دیکھنے دوں گا
پڑوں گا غیر کی آنکھوں میں وہ غبار ہوں میں
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ناصحا عاشقی میں رکھ معذور
کیا کروں عالم جوانی ہے
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| جوانی |
| 2 لائنیں شیری |
نہیں بچتا ہے بیمار محبت
سنا ہے ہم نے گویاؔ کی زبانی
گویا فقیر محمد
نقش پا پنج شاخہ قبر پر روشن کرو
مر گیا ہوں میں تمہاری گرمیٔ رفتار پر
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

