اور ربط جسے کفر سے ہے یعنی برہمن
کہتا ہے کہ ہرگز مرا زنار نہ ٹوٹے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
بہار اس دھوم سے آئی گئی امید جینے کی
گریباں پھٹ چکا کوئی دم میں اب نوبت ہی سینے کی
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
دیکھنا زور ہی گانٹھا ہے دل یار سے دل
سنگ و شیشے کو کیا ہے میں ہنر سے پیوند
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
دین و دنیا کا جو نہیں پابند
وہ فراغت تمام رکھتا ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
غیر وفا میں پختہ ہیں یوں ہی سہی پہ مجھ سا بھی
ایک تری جناب میں خام رہا تو کیا ہوا
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
گر شیخ عزم منزل حق ہے تو آ ادھر
ہے دل کی راہ سیدھی و کعبے کی راہ کج
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
حاجی تو تو راہ کو بھولا منزل کو کوئی پہنچے ہے
دل سا قبلہ چھوڑ کے تو نے کعبے کا احرام کیا
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

