EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پھر ایک شعلۂ پر پیچ و تاب بھڑکے گا
کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں میں

گوپال متل




ترک تعلقات خود اپنا قصور تھا
اب کیا گلہ کہ ان کو ہماری خبر نہیں

گوپال متل




اب کے ساون میں شرارت یہ مرے ساتھ ہوئی
میرا گھر چھوڑ کے کل شہر میں برسات ہوئی

گوپال داس نیرج




آسماں کہتے ہیں جس کو وہ زمین شعر ہے
ماہ نو مصرع ہے وصف ابروئے خم دار میں

گویا فقیر محمد




اے جنوں ہاتھ جو وہ زلف نہ آئی ہوتی
آہ نے عرش کی زنجیر ہلائی ہوتی

گویا فقیر محمد




اپنے سوا نہیں ہے کوئی اپنا آشنا
دریا کی طرح آپ ہیں اپنے کنار میں

گویا فقیر محمد




بجلی چمکی تو ابر رویا
یاد آ گئی کیا ہنسی کسی کی

گویا فقیر محمد