تری ہستی سے قائم ہے یہ ہستی
یہ ہستی خود کوئی ہستی نہیں ہے
غلام نبی حکیم
زندگی عشق و محبت سے جواں ہوتی ہے
ورنہ بے کیف سی بے تاب و تواں ہوتی ہے
غلام نبی حکیم
آنکھوں سے اسی طرح اگر سیل رواں ہے
دنیا میں کوئی گھر نہ رہا ہے نہ رہے گا
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
آزردہ کچھ ہیں شاید ورنہ حضور مجھ سے
کیوں منہ پھلا رہا ہے وہ گلعذار اپنا
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
عبث گھر سے اپنے نکالے ہے تو
بھلا ہم تجھے چھوڑ کر جائیں گے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
ادا کو تری میرا جی جانتا ہے
حریف اپنا ہر کوئی پہچانتا ہے
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
اے بحر نہ تو اتنا امنڈ چل مرے آگے
رو رو کے ڈبا دوں گا کبھی آ گئی گر موج
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

