اب شکوۂ سنگ و خشت کیسا
جب تیری گلی میں آ گیا ہوں
گوپال متل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
فرق یہ ہے نطق کے سانچے میں ڈھل سکتا نہیں
ورنہ جو آنسو ہے در شاہوار نغمہ ہے
گوپال متل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
فطرت میں آدمی کی ہے مبہم سا ایک خوف
اس خوف کا کسی نے خدا نام رکھ دیا
گوپال متل
خدا گواہ کہ دونوں ہیں دشمن پرواز
غم قفس ہو کہ راحت ہو آشیانے کی
گوپال متل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کیا کیجئے کشش ہے کچھ ایسی گناہ میں
میں ورنہ یوں فریب میں آتا بہار کے
گوپال متل
ٹیگز:
| گنہ |
| 2 لائنیں شیری |
میرا ساقی ہے بڑا دریا دل
پھر بھی پیاسا ہوں کہ صحرا ہوں میں
گوپال متل
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
مجھے زندگی کی دعا دینے والے
ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر
گوپال متل

