EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

در پہ نالاں جو ہوں تو کہتا ہے
پوچھو کیا چیز بیچتا ہے یہ

گویا فقیر محمد




دماغ اور ہی پاتی ہیں ان حسینوں میں
یہ ماہ وہ ہیں نظر آئیں جو مہینوں میں

گویا فقیر محمد




گر ہمارے قتل کے مضموں کا وہ نامہ لکھے
بیضۂ فولاد سے نکلیں کبوتر سیکڑوں

گویا فقیر محمد




گیا ہے کوچۂ کاکل میں اب دل
مسلماں وارد ہندوستاں ہے

گویا فقیر محمد




ہر گام پہ ہی سائے سے اک مصرع موزوں
گر چند قدم چلیے تو کیا خوب غزل ہو

گویا فقیر محمد




عطر مٹی کا لگایا چاہئے پوشاک میں
خاک سے رغبت رہے ملنا ہے اک دن خاک میں

گویا فقیر محمد




جامۂ سرخ ترا دیکھ کے گل
پیرہن اپنا قبا کرتے ہیں

گویا فقیر محمد