در پہ نالاں جو ہوں تو کہتا ہے
پوچھو کیا چیز بیچتا ہے یہ
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دماغ اور ہی پاتی ہیں ان حسینوں میں
یہ ماہ وہ ہیں نظر آئیں جو مہینوں میں
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گر ہمارے قتل کے مضموں کا وہ نامہ لکھے
بیضۂ فولاد سے نکلیں کبوتر سیکڑوں
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
گیا ہے کوچۂ کاکل میں اب دل
مسلماں وارد ہندوستاں ہے
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ہر گام پہ ہی سائے سے اک مصرع موزوں
گر چند قدم چلیے تو کیا خوب غزل ہو
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عطر مٹی کا لگایا چاہئے پوشاک میں
خاک سے رغبت رہے ملنا ہے اک دن خاک میں
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جامۂ سرخ ترا دیکھ کے گل
پیرہن اپنا قبا کرتے ہیں
گویا فقیر محمد
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

