EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

سارے قرآن سے اس پری رو کو
یاد اک لفظ لن ترانی ہے

گویا فقیر محمد




سخت ہے حیرت ہمیں جو زیر ابرو خال ہے
ہم تو سنتے تھے کہ کعبہ میں کوئی ہندو نہیں

گویا فقیر محمد




ٹھکرا کے چلے جبیں کو میری
قسمت کی لکھی نے یاوری کی

گویا فقیر محمد




وہ طفل نصیری آئے شاید
قسمیں دوں مرتضیٰ علی کی

گویا فقیر محمد




زاہدو قدرت خدا دیکھو
بت کو بھی دعوی خدائی ہے

گویا فقیر محمد




ضعف سے رہتا ہے اب پاؤں پہ سر
آپ اپنی ٹھوکریں کھاتے ہیں ہم

گویا فقیر محمد




آئینہ خانے سے دامن کو بچا کر گزرو
آئینہ ٹوٹا تو ریزوں میں بکھر جاؤ گے

غلام جیلانی اصغر