جو الجھی تھی کبھی آدم کے ہاتھوں
وہ گتھی آج تک سلجھا رہا ہوں
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے
وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں
فراق گورکھپوری
کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے
ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں
فراق گورکھپوری
کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں
زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ
فراق گورکھپوری
کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں
جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
کون یہ لے رہا ہے انگڑائی
آسمانوں کو نیند آتی ہے
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| فریکچر |
| 2 لائنیں شیری |
خراب ہو کے بھی سوچا کیے ترے مہجور
یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھر بھی
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

