EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہی
جس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے

فراق گورکھپوری




خود مجھ کو بھی تا دیر خبر ہو نہیں پائی
آج آئی تری یاد اس آہستہ روی سے

فراق گورکھپوری




کس لئے کم نہیں ہے درد فراق
اب تو وہ دھیان سے اتر بھی گئے

فراق گورکھپوری




کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی
یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

فراق گورکھپوری




کسی کی بزم طرب میں حیات بٹتی تھی
امید واروں میں کل موت بھی نظر آئی

فراق گورکھپوری




کچھ نہ پوچھو فراقؔ عہد شباب
رات ہے نیند ہے کہانی ہے

فراق گورکھپوری




کچھ قفس کی تیلیوں سے چھن رہا ہے نور سا
کچھ فضا کچھ حسرت پرواز کی باتیں کرو

فراق گورکھپوری