EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں

فراق گورکھپوری




دیکھ رفتار انقلاب فراقؔ
کتنی آہستہ اور کتنی تیز

فراق گورکھپوری




دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام
آدمی کو آدمی درکار ہے

فراق گورکھپوری




دل دکھے روئے ہیں شاید اس جگہ اے کوئے دوست
خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا

فراق گورکھپوری




ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

فراق گورکھپوری




ایک رنگینی ظاہر ہے گلستاں میں اگر
ایک شادابی پنہاں ہے بیابانوں میں

فراق گورکھپوری




فضا تبسم صبح بہار تھی لیکن
پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی

فراق گورکھپوری