چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں
نگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دیکھ رفتار انقلاب فراقؔ
کتنی آہستہ اور کتنی تیز
فراق گورکھپوری
دیوتاؤں کا خدا سے ہوگا کام
آدمی کو آدمی درکار ہے
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| انسان |
| 2 لائنیں شیری |
دل دکھے روئے ہیں شاید اس جگہ اے کوئے دوست
خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
فراق گورکھپوری
ایک رنگینی ظاہر ہے گلستاں میں اگر
ایک شادابی پنہاں ہے بیابانوں میں
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
فضا تبسم صبح بہار تھی لیکن
پہنچ کے منزل جاناں پہ آنکھ بھر آئی
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

