اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عشق اب بھی ہے وہ محرم بیگانہ نما
حسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایاں ہو جائے
فراق گورکھپوری
عشق ابھی سے تنہا تنہا
ہجر کی بھی آئی نہیں نوبت
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
عشق پھر عشق ہے جس روپ میں جس بھیس میں ہو
عشرت وصل بنے یا غم ہجراں ہو جائے
فراق گورکھپوری
اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئے
انہیں سے کام چلاؤ بڑی اداس ہے رات
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
جس میں ہو یاد بھی تری شامل
ہائے اس بے خودی کو کیا کہیے
فراق گورکھپوری

