EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے

فراق گورکھپوری




عشق اب بھی ہے وہ محرم بیگانہ نما
حسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایاں ہو جائے

فراق گورکھپوری




عشق ابھی سے تنہا تنہا
ہجر کی بھی آئی نہیں نوبت

فراق گورکھپوری




عشق پھر عشق ہے جس روپ میں جس بھیس میں ہو
عشرت وصل بنے یا غم ہجراں ہو جائے

فراق گورکھپوری




اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئے
انہیں سے کام چلاؤ بڑی اداس ہے رات

فراق گورکھپوری




جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی
چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

فراق گورکھپوری




جس میں ہو یاد بھی تری شامل
ہائے اس بے خودی کو کیا کہیے

فراق گورکھپوری