کیا جانئے موت پہلے کیا تھی
اب میری حیات ہو گئی ہے
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
لائی نہ ایسوں ویسوں کو خاطر میں آج تک
اونچی ہے کس قدر تری نیچی نگاہ بھی
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| حب وطن |
| 2 لائنیں شیری |
مائل بیداد وہ کب تھا فراقؔ
تو نے اس کو غور سے دیکھا نہیں
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں دیر تک تجھے خود ہی نہ روکتا لیکن
تو جس ادا سے اٹھا ہے اسی کا رونا ہے
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
میں مدتوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیر
اب تم بھی ساتھ چھوڑنے کو کہہ رہے ہو خیر
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں
وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| منزیل |
| 2 لائنیں شیری |

