EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

کیا جانئے موت پہلے کیا تھی
اب میری حیات ہو گئی ہے

فراق گورکھپوری




لائی نہ ایسوں ویسوں کو خاطر میں آج تک
اونچی ہے کس قدر تری نیچی نگاہ بھی

فراق گورکھپوری




لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

فراق گورکھپوری




مائل بیداد وہ کب تھا فراقؔ
تو نے اس کو غور سے دیکھا نہیں

فراق گورکھپوری




میں دیر تک تجھے خود ہی نہ روکتا لیکن
تو جس ادا سے اٹھا ہے اسی کا رونا ہے

فراق گورکھپوری




میں مدتوں جیا ہوں کسی دوست کے بغیر
اب تم بھی ساتھ چھوڑنے کو کہہ رہے ہو خیر

فراق گورکھپوری




منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں
وہی انداز جہان گزراں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری