مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی
دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے
فراق گورکھپوری
میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا
فراق گورکھپوری
پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے
ہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے
فراق گورکھپوری
قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن
آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| جوانی |
| 2 لائنیں شیری |
رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے
واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
رونے کو تو زندگی پڑی ہے
کچھ تیرے ستم پہ مسکرا لیں
فراق گورکھپوری
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

