EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی
دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

فراق گورکھپوری




میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں
جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا

فراق گورکھپوری




پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے
ہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے

فراق گورکھپوری




قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن
آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا

فراق گورکھپوری




رات بھی نیند بھی کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

فراق گورکھپوری




رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئے
واہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم

فراق گورکھپوری




رونے کو تو زندگی پڑی ہے
کچھ تیرے ستم پہ مسکرا لیں

فراق گورکھپوری