EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

مرے لیے نہ رک سکے تو کیا ہوا
جہاں کہیں ٹھہر گئے ہو خوش رہو

فاضل جمیلی




مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا
میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا

فاضل جمیلی




مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں
میں انتظار کی ہر کیفیت سے گزرا ہوں

فاضل جمیلی




مدت کے بعد آج میں آفس نہیں گیا
خود اپنے ساتھ بیٹھ کے دن بھر شراب پی

فاضل جمیلی




پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتے
نہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا

فاضل جمیلی




سب اپنے اپنے دیوں کے اسیر پائے گئے
میں چاند بن کے کئی آنگنوں میں اترا ہوں

فاضل جمیلی




سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے
تری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے

فاضل جمیلی