EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زندگی خود کو نہ اس روپ میں پہچان سکی
آدمی لپٹا ہے خوابوں کے کفن میں ایسا

فضا ابن فیضی




صابرؔ ترا کلام سنیں کیوں نہ اہل فن
بندش عجب ہے اور عجب بول چال ہے

فضل حسین صابر




شگفتہ باغ سخن ہے ہمیں سے اے صابرؔ
جہاں میں مثل نسیم بہار ہم بھی ہیں

فضل حسین صابر




تم نے کیوں دل میں جگہ دی ہے بتوں کو صابرؔ
تم نے کیوں کعبہ کو بت خانہ بنا رکھا ہے

فضل حسین صابر




تو جفاؤں سے جو بدنام کئے جاتا ہے
یاد آئے گی تجھے میری وفا میرے بعد

فضل حسین صابر




ان کی مانند کوئی صاحب ادراک کہاں
جو فرشتے نہیں سمجھے وہ بشر سمجھے ہیں

فضل حسین صابر




اب کون جا کے صاحب منبر سے یہ کہے
کیوں خون پی رہا ہے ستم گر شراب پی

فاضل جمیلی