EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تم کبھی ایک نظر میری طرف بھی دیکھو
اک توقع ہی تو ہے کوئی گزارش تو نہیں

فاضل جمیلی




زندگی ہو تو کئی کام نکل آتے ہیں
یاد آؤں گا کبھی میں بھی ضرورت میں اسے

فاضل جمیلی




زیادہ دیر اسے دیکھنا بھی ہے فاضلؔ
اور اپنے آپ کو تھوڑا سا کم بھی رکھنا ہے

فاضل جمیلی




آنکھوں کا تو کام ہی ہے رونا
یہ گریۂ بے سبب ہے پیارے

فضل احمد کریم فضلی




اہل ہنر کے دل میں دھڑکتے ہیں سب کے دل
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

فضل احمد کریم فضلی




فریب کرم اک تو ان کا ہے اس پر
ستم میری خوش فہمیاں اور بھی ہیں

فضل احمد کریم فضلی




غم دوراں میں کہاں بات غم جاناں کی
نظم ہے اپنی جگہ خوب مگر ہائے غزل

فضل احمد کریم فضلی