EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہے سخت مشکل میں جان ساقی پلائے آخر کدھر سے پہلے
سبھی کی آنکھیں یہ کہہ رہی ہیں ادھر سے پہلے ادھر سے پہلے

فضل احمد کریم فضلی




ہمارے ان کے تعلق کا اب یہ عالم ہے
کہ دوستی کا ہے کیا ذکر دشمنی بھی نہیں

فضل احمد کریم فضلی




نقاب ان نے رخ سے اٹھائی تو لیکن
حجابات کچھ درمیاں اور بھی ہیں

فضل احمد کریم فضلی




ہر اک شے خون میں ڈوبی ہوئی ہے
کوئی اس طرح سے پیدا نہ ہوتا

فضل تابش




کمرے میں آ کے بیٹھ گئی دھوپ میز پر
بچوں نے کھلکھلا کے مجھے بھی جگا دیا

فضل تابش




مانگنے سے ہوا ہے وہ خود سر
کچھ دنوں کچھ نہ مانگ کر دیکھو

فضل تابش




نہ کر شمار کہ ہر شے گنی نہیں جاتی
یہ زندگی ہے حسابوں سے جی نہیں جاتی

فضل تابش