EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

رات کو خواب بہت دیکھے ہیں
آج غم کل سے ذرا ہلکا ہے

فضل تابش




سنتے ہیں کہ ان راہوں میں مجنوں اور فرہاد لٹے
لیکن اب آدھے رستے سے لوٹ کے واپس جائے کون

فضل تابش




سورج اونچا ہو کر میرے آنگن میں بھی آیا ہے
پہلے نیچا تھا تو اونچے میناروں پر بیٹھا تھا

فضل تابش




وہی دو چار چہرے اجنبی سے
انہیں کو پھر سے دہرانا پڑے گا

فضل تابش




یہ بستی کب درندوں سے تھی خالی
میں پھر بھی ٹھیک لوگوں میں رہا ہوں

فضل تابش




یہ سورج کیوں بھٹکتا پھر رہا ہے
مرے اندر اتر جاتا تو سوتا

فضل تابش




آداب عاشقی سے تو ہم بے خبر نہ تھے
دیوانے تھے ضرور مگر اس قدر نہ تھے

فگار اناوی