EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کی
مجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا

فضا ابن فیضی




تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ
ایسے پس منظر میں کیا رہنا سر منظر تو آ

فضا ابن فیضی




اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہے
ہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا

فضا ابن فیضی




وقت نے کس آگ میں اتنا جلایا ہے مجھے
جس قدر روشن تھا میں اس سے سوا روشن ہوا

فضا ابن فیضی




وہ میل جول حسن و بصیرت میں اب کہاں
جو سلسلہ تھا پھول کا پتھر سے کٹ گیا

فضا ابن فیضی




یہ تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون
ہو گئے ہم راکھ تو دست دعا روشن ہوا

فضا ابن فیضی




یوں معانی سے بہت خاص ہے رشتہ اپنا
زندگی کٹ گئی لفظوں کو خبر کرنے میں

فضا ابن فیضی