ازل سے دل ہے سجدہ میں ترے ابرو کے مسجد میں
اٹھاتا سر نہیں اب تک نمازی اس کو کہتے ہیں
شیخ ظہور الدین حاتم
بازار سے آئے ہاتھ خالی
کیسے میں دام کچھ نہ نکلا
شیخ ظہور الدین حاتم
بدن پر کچھ مرے ظاہر نہیں اور دل میں سوزش ہے
خدا جانے یہ کس نے راکھ اندر آگ دابی ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
بیت بحثی نہ کر اے فاختہ گلشن میں کہ آج
مصرع سرو سے موزوں ہے مرا مصرع آہ
شیخ ظہور الدین حاتم
بس نہیں چلتا جو اس دم ان کے اوپر گر پڑے
عاشق و معشوق کو جب ایک جا پاتا ہے چرخ
شیخ ظہور الدین حاتم
بتنگ آیا ہوں اس جاہل کے ہاتھوں اس قدر حاتمؔ
کہ پانی میں کتابوں کے ڈبونے کی نہیں فرصت
شیخ ظہور الدین حاتم
بو الہوس گو کریں تیرے لب شیریں پر ہجوم
تلخ مت ہو کہ مٹھائی سے مگس آتی ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
چاند سے تجھ کو جو دے نسبت سو بے انصاف ہے
چاند کے منہ پر ہیں چھائیں تیرا مکھڑا صاف ہے
شیخ ظہور الدین حاتم
چلا جا محتسب مسجد میں حاتمؔ سے نہ بحثا کر
کہ طاعت اس کے مشرب میں صراحی اور پیالہ ہے
شیخ ظہور الدین حاتم

