اڑتے ہوئے آتے ہیں ابھی سنگ تمنا
اور کار گہہ دل کی وہی شیشہ گری ہے
شہزاد احمد
میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا
اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا
شہزاد احمد
جب چل پڑے تو برق کی رفتار سے چلے
بیٹھے رہے تو پاؤں کی زنجیر ہو گئے
شہزاد احمد
جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا
تب اس کو پہلی ملاقات کا خیال آیا
شہزاد احمد
جہاں میں ہم نے کسی سے بھی کھل کے بات نہ کی
دیار غیر تھا دامن بچا بچا کے چلے
شہزاد احمد
جہاں میں منزل مقصود ڈھونڈنے والے
یہ کائنات کی تصویر ہی خیالی ہے
شہزاد احمد
جیسے منہ بند کلی رات کے ویرانے میں
سانس لینا مجھے دشوار ہوا جاتا ہے
شہزاد احمد
جلتے ہیں اک چراغ کی لو سے کئی چراغ
دنیا ترے خیال سے روشن ہوئی تو ہے
شہزاد احمد
جواز کوئی اگر میری بندگی کا نہیں
میں پوچھتا ہوں تجھے کیا ملا خدا ہو کر
شہزاد احمد

