تختۂ دار پہ چاہے جسے لٹکا دیجے
اتنے لوگوں میں گناہ گار کوئی تو ہوگا
شہزاد احمد
ٹکراتا ہے سر پھوڑتا ہے سارا زمانہ
دیوار کو رستے سے ہٹاتا نہیں پھر بھی
شہزاد احمد
تلاش کرنی تھی اک روز اپنی ذات مجھے
یہ بھوت بھی مرے سر پر سوار ہونا تھا
شہزاد احمد
تمام عمر ہوا پھانکتے ہوئے گزری
رہے زمیں پہ مگر خاک کا مزا نہ لیا
شہزاد احمد
تنہائی میں آ جاتی ہیں حوریں مرے گھر میں
چمکاتے ہیں مسجد کے در و بام فرشتے
شہزاد احمد
تیرے سینے میں بھی اک داغ ہے تنہائی کا
جانتا میں تو کبھی دور نہ ہوتا تجھ سے
شہزاد احمد
شہر کو چھوڑ کے ویرانوں میں آباد تو ہو
تجھے تنہائی کی آواز سنائی دے گی
شہزاد احمد
ٹھہر گئی ہے طبیعت اسے روانی دے
زمین پیاس سے مرنے لگی ہے پانی دے
شہزاد احمد
تیرگی ہی تیرگی حد نظر تک تیرگی
کاش میں خود ہی سلگ اٹھوں اندھیری رات میں
شہزاد احمد

