اجنبی شہروں میں تجھ کو ڈھونڈھتا ہوں جس طرح
اک گلی ہر شہر میں تیری گلی جیسی بھی ہے
شہزاد احمد
اپنے ہی عکس کو پانی میں کہاں تک دیکھوں
ہجر کی شام ہے کوئی تو لب جو آئے
شہزاد احمد
اپنے لیے تو خاک کی خوشبو ہے زندگی
لازم نہیں کہ آب و ہوا خوش گوار ہو
شہزاد احمد
بہت شرمندہ ہوں ابلیس سے میں
خطا میری سزا اس کو ملی ہے
شہزاد احمد
بیٹھا ہی رہا صبح سے میں دھوپ ڈھلے تک
سایہ ہی سمجھتی رہی دیوار مجھے بھی
شہزاد احمد
بس ایک لمحے میں کیا کچھ گزر گئی دل پر
بحال ہوتے ہوئے ہم نے ایک زمانہ لیا
شہزاد احمد
بس یہی ہوگا کہ دیوانہ کہیں گے اہل بزم
آپ چپ کیوں ہیں مری طرز نوا لے لیجیے
شہزاد احمد
بے ہنر ہاتھ چمکنے لگا سورج کی طرح
آج ہم کس سے ملے آج کسے چھو آئے
شہزاد احمد
بھرپور نہیں ہیں کسی چہرے کے خد و خال
دیکھا نہیں وہ چاند جو پورا نظر آئے
شہزاد احمد

